Bible Book List

دوم تو اریخ 14 Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

14 ابیاہ نے اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ آرام کیا۔ لوگوں نے اس کو داؤد کے شہر میں دفنایا۔ تب ابیاہ کا بیٹا آسا ابیاہ کی جگہ نیا بادشاہ ہوا آسا کے زمانے میں ملک میں دس سال تک امن رہا۔

یہوداہ کا بادشاہ آسا

آسا نے خدا وند اپنے خدا کے لئے اچھے اور صحیح کام کئے۔ آسا نے ان غیر ملکی قربان گاہوں کو ہٹا دیا جن کا استعمال مورتیوں کی پرستش کے لئے ہوتا تھا۔ آسا نے اعلیٰ جگہوں کو ہٹا دیا اور یادگار پتھروں کو تباہ کر دیا اور آسا نے آشیرہ کے ستون کو توڑ ڈا لا۔ آسا نے یہوداہ کے لوگوں کے آباؤ اجداد کے خدا وند خدا کے راستے پر چلنے کا حکم دیا اور آسا نے خدا وند کے احکام کی تعمیل کرنے کا حکم دیا۔ آسا نے اعلیٰ جگہوں اور بخور کی قربان گاہوں کو یہوداہ کے شہروں سے ہٹا دیا۔ اس لئے جب آسا بادشاہ تھا تو مملکت میں امن تھا۔ آسا نے یہوداہ میں امن کے زمانے میں شہروں کو طاقتور بنایا آسا نے ان برسوں میں کوئی جنگ نہیں کی۔ کیوں کہ خدا وند نے اسے امن عطا کیا تھا۔ آسا نے یہوداہ کے لوگوں سے کہا ، “ہم ان شہروں کو اور اسکے اطراف دیواروں کو بنائیں۔ ہم مینار ، پھا ٹکیں اور پھا ٹکوں میں سلا خیں لگائیں۔ جب تک ہم اس ملک میں زندہ ہیں ہم یہ کریں۔ یہ ہمارا ملک ہے۔ کیوں کہ ہم خدا وند ہمارے خدا کے راستے پر چلے ہیں۔ اس نے ہمارے چاروں طرف ہمیں امن بخشا ہے۔”اس لئے انہوں نے یہ سب بنایا اور کامیاب ہوئے۔ آسا کے پاس ۰۰۰, ۳۰۰ آدمیوں کی فوج یہوداہ کے خاندانی گروہ سے تھی اور ۰۰۰,۸۰ ۲ آدمی بنیمین کے خاندانی گروہ سے تھے۔ یہوداہ کے آدمی بڑی ڈھا لیں اور بر چھے لئے ہو ئے تھے۔ بنیمین کے آدمی چھوٹی ڈھالیں اور کمان لئے ہو ئے تھے وہ سب طاقتور اور ہمت وا لے تھے۔ تب زارح آسا کی فوج کے خلاف آیا۔ زارح اتھوپیا کا تھا۔زارح کے پاس ۰۰۰,۰۰۰,۱ آدمی اور ۳۰۰ رتھ اس کی فوج میں تھے۔ زارح کی فوج مر یسہ کے شہر تک گئی۔ 10 آسا زارح کے خلاف لڑنے کے لئے گیا۔آسا کی فوج مریسہ کی صفاتہ کی وادی میں جنگ کے لئے تیار تھی۔ 11 آسا نے خداوند کو پکارا اور کہا، “خداوند تو ہی طاقتور لوگو ں کے خلاف کمزورلوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔ اے خداوند میرے خدا ہماری مدد کر ہم تجھ پر انحصا رکرتے ہیں۔ ہم تیرے نام پر اس بڑی فوج سے جنگ کر تے ہیں۔ اے خداوند تو ہمارا خدا ہے۔ اپنے خلاف کسی کو جیتنے نہ دے۔” 12 تب خداوند نے یہودا ہ کی طرف سے آسا کی فوج کا استعمال کوش کی فوج کو شکست دینے کے لئے کیا اور کوش کی فوج بھاگ کھڑی ہو ئی۔ 13 آسا کی فوج نے کوش کی فوج کا پیچھا مسلسل جرار شہر تک کیا۔ کوش کے لوگ اتنے زیادہ مارے گئے کہ وہ جنگ کرنے کے لئے ایک فوج کے طور پر پھر جمع نہ ہو سکے۔ آسا اور اس کی فوج نے دشمن سے دوسری قیمتی چیزیں لے لیں۔ 14 آ سا اور اس کی فوج نے جرار کے قریب تمام شہروں کو ہرا دیا۔ ان شہرو ں میں رہنے وا لے لو گ خداوند سے ڈرتے تھے۔ ان شہرو ں میں بے شمار قیمتی چیزیں تھیں۔ آسا کی فوجوں نے ان شہرو ں سے ان قیمتی چیزوں کو لے لیا۔ 15 آسا کی فوج نے ان خیموں پر بھی حملہ کیا جن میں چرواہے رہتے تھے۔ وہ ان کے مینڈھے اور اونٹ لے گئے تب آسا کی فوج یروشلم واپس گئی۔

2 Chronicles 14 New International Version (NIV)

14 [a]And Abijah rested with his ancestors and was buried in the City of David. Asa his son succeeded him as king, and in his days the country was at peace for ten years.

Asa King of Judah

Asa did what was good and right in the eyes of the Lord his God. He removed the foreign altars and the high places, smashed the sacred stones and cut down the Asherah poles.[b] He commanded Judah to seek the Lord, the God of their ancestors, and to obey his laws and commands. He removed the high places and incense altars in every town in Judah, and the kingdom was at peace under him. He built up the fortified cities of Judah, since the land was at peace. No one was at war with him during those years, for the Lord gave him rest.

“Let us build up these towns,” he said to Judah, “and put walls around them, with towers, gates and bars. The land is still ours, because we have sought the Lord our God; we sought him and he has given us rest on every side.” So they built and prospered.

Asa had an army of three hundred thousand men from Judah, equipped with large shields and with spears, and two hundred and eighty thousand from Benjamin, armed with small shields and with bows. All these were brave fighting men.

Zerah the Cushite marched out against them with an army of thousands upon thousands and three hundred chariots, and came as far as Mareshah. 10 Asa went out to meet him, and they took up battle positions in the Valley of Zephathah near Mareshah.

11 Then Asa called to the Lord his God and said, “Lord, there is no one like you to help the powerless against the mighty. Help us, Lord our God, for we rely on you, and in your name we have come against this vast army. Lord, you are our God; do not let mere mortals prevail against you.”

12 The Lord struck down the Cushites before Asa and Judah. The Cushites fled, 13 and Asa and his army pursued them as far as Gerar. Such a great number of Cushites fell that they could not recover; they were crushed before the Lord and his forces. The men of Judah carried off a large amount of plunder. 14 They destroyed all the villages around Gerar, for the terror of the Lord had fallen on them. They looted all these villages, since there was much plunder there. 15 They also attacked the camps of the herders and carried off droves of sheep and goats and camels. Then they returned to Jerusalem.


  1. 2 Chronicles 14:1 In Hebrew texts 14:1 is numbered 13:23, and 14:2-15 is numbered 14:1-14.
  2. 2 Chronicles 14:3 That is, wooden symbols of the goddess Asherah; here and elsewhere in 2 Chronicles
New International Version (NIV)

Holy Bible, New International Version®, NIV® Copyright ©1973, 1978, 1984, 2011 by Biblica, Inc.® Used by permission. All rights reserved worldwide.

Viewing of
Cross references