A A A A A
Bible Book List

یرمیاہ 25 Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

یر میاہ کی تقریر کا خلاصہ

25 یہ پیغام جو بادشاہ یہوداہ یہو یقیم بن یوسیاہ کی بادشاہت کے چو تھے برس میں اور شاہ بابل نبو کد نضر کی بادشاہت کے پہلے برس میں یہوداہ کے لوگوں کے متعلق یر میاہ پر نازل ہوا۔ یہ وہ پیغام ہے جسے یرمیاہ نبی نے یہوداہ کے سبھی لوگوں کو اور انکے سارے لوگوں کو جو یروشلم میں رہتے ہیں دیا۔

کہ شاہ یہوداہ یوسیاہ بن امون کے تیرہویں برس سے آج تک یہ تیئیس برس خدا وندکا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا اور میں تم کو سناتا اور بر وقت جتا تا رہا۔ اسکے با وجود تم نے نہ سنا۔ خداوند نے اپنے خدمت گذار نبیوں کو تمہا رے پاس بار بار بھیجا ہے۔لیکن تم نے ان کی طرف تھوڑا بھی دھیان نہ دیا۔

ان نبیوں نے کہا، “اپنی زندگی کو بدلو۔ ان بُرے کاموں کو کرنا چھوڑدو۔ اگر تم بدل جا ؤ گے تو تم اس زمین پر دوبارہ رہ سکو گے جسے خداوند نے تمہا رے با پ دادا کو بہت پہلے دی تھی۔ اس نے یہ زمین تمہیں ہمیشہ رہنے کو دی۔ غیر خدا ؤں کی پیروی نہ کرو۔ان کی خدمت یا ان کی عبادت نہ کرو۔ان مورتیوں کی عبادت نہ کرو جنہیں کچھ لوگوں نے بنایا ہے۔ وہ مجھے تم پر صرف غضبناک کر تے ہیں۔ایسا کر نے سے خود تمہیں نقصان پہنچے گا۔”

“لیکن تم نے میری ان سنی کی۔“یہ پیغام خدا وند کا ہے۔ ” تم نے ان مورتیوں کی عبادت کی جنہیں بعض لوگوں نے بنايا اور اس نے مجھے غضبناک کیا اور اس نے صرف تمہیں دکھ پہنچا یا۔”

اس لئے خدا وند قادر مطلق یوں فرماتا ہے، “تم نے میری بات نہ سنی۔ دیکھو میں تمام شمالی قبائل کو اور اپنے خدمت گزار شاہ بابل نبو کد نضر کو بلاؤں گا۔ خدا وند فرماتا ہے اور میں ان سے تمہارے ملک، اسکے لوگوں اور اسکے آس پاس کے تمام قوموں پر حملہ کرواؤں گا۔ میں ان کو بالکل نیست و نابود کر دوں گا۔ لوگ انکا مذاق اڑائیں گے اور میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد کردوں گا۔ 10 بلکہ میں ان سے خوشی و شادمانی کی آواز، دلہے اور دلہن کی آواز، چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی موقوف کر دوں گا۔ 11 وہ ساری سر زمین ہی بیا بان ہوگی۔ وہ سارے لوگ شاہ بابل کے ستّر برس تک غلام ہوں گے۔

12 “جب ستّر برس پورے ہوں گے تو میں شاہ بابل کو سزا دوں گا۔” یہ پیغام خدا وند کا ہے۔“میں بابل کے باشندوں کے ملک کو انکے گناہوں کی سزا دوں گا۔ میں اس ملک کو ہمیشہ کے لئے بیا بان بناؤں گا۔ 13 اور میں اس ملک پر اپنی سب باتیں جو میں نے اس کی بابت کہیں یعنی وہ سب جو اس کتاب میں لکھی ہیں جو یرمیاہ نے نبوت کر کے سب قوموں کو کہہ سنائیں پوری کروں گا۔ 14 ہاں بابل کے لوگوں کو کئی قوموں اور کئی بڑے بادشاہوں کی خدمت کرنی پڑیگی۔ میں ان پر ایسا ہونے دوں گا۔ کیوں کہ یہی انہوں نے دوسروں کے ساتھ کیا تھا۔”

عالمی قوموں کے ساتھ عدالت

15 چونکہ خدا وند اسرائیل کے خدا نے فرمایا کہ غضب کی مئے کا یہ پیالہ میرے ہاتھ سے لے اور ان سب قوموں کو جن کے پاس میں تجھے بھیجتا ہوں پلا۔ 16 وہ اس مئے کو پئیں گے۔ تب وہ لڑ کھڑائیں گے۔ اور پاگلوں کی سی حرکت کریں گے۔ وہ ان تلواروں کے سبب ایسا کریں گے جنہیں میں انکے خلاف جلد بھیجوں گا۔

17 اس لئے میں نے خدا وند کے ہاتھ سے وہ پیالہ لیا۔ میں ان قوموں میں گیا جہاں خدا وند نے مجھے بھیجا۔ اور ان لوگوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔ 18 میں نے شاہ یہوداہ اور امراء کو اس پیالہ سے پلا یا۔ میں نے یہ اس لئے کیا کہ انکی زمین بیابان بن جائے۔ میں نے یہ اس لئے کیا کہ زمین کا وہ پلاٹ پوری طرح نیست و نابود ہو جائے کہ لوگ اسکے بارے میں سیٹی بجائیں اور اس پر لعنت کريں۔ یہوداہ اب اسی طرح کا ہے۔

19 میں نے شاہ مصر فرعون کو بھی پیالہ سے پلا یا۔ میں نے اس کے ملاز موں۔ اس کے امراء اور اس کے سبھی لوگوں کو خدا وند کے غضب کے پیالہ سے پلا یا۔

20 میں نے سبھی عربوں اور اس ملک کے عوض سبھی بادشاہوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔ میں نے فلسطین ملک کے سبھی بادشاہوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔ وہ سارے بادشاہ اسقلون، غزّہ، عقرون اور اشدود شہروں سے تھے۔

21 تب میں نے ادوم، موآب اور بنی عّمون کو اس پیا لہ سے پلا یا۔

22 میں نے صور اور صیدا کے بادشاہوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔

میں نے سمندر کے پار کے سبھی بادشاہوں کو بھی اس پیالہ سے پلا یا۔ 23 میں نے ودان، تیما اور بوز کے لوگوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔ میں نے ان سب لوگوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔ جو کہ اپنے بالوں کو اپنی ہیکلوں میں کٹوائے۔ 24 میں نے عرب کے سبھی بادشاہوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔ یہ بادشاہ بیابان میں بستے ہیں۔ 25 میں نے زمری، عیلام اور مادی کے سبھی بادشاہوں کو اس پیالہ سے پلایا۔ 26 میں نے شمال کے سبھی قریب اور دور کے بادشاہوں کو اس پیالہ سے پلا یا۔ میں نے ایک کے بعد دوسرے کو پلا یا۔ میں نے روئے زمین کے سبھی حکومتوں کو خدا وند کے غضب کے اس پیالہ سے پلا یا۔ لیکن بادشاہ “شیشک ” ان سبھی دیگر قوموں کے بعد آخر میں اس پیالے سے پئے گا۔

27 “اے یرمیاہ! ان قو موں سے کہو کہ بنی اسرائیل کا خداوند قادر مطلق جو کہتا ہے، وہ یہ ہے: ' میرے غضب کے اس پیالہ کو پیو! اسے پی کر مست ہو جا ؤ اور قئے کرو۔ گر پڑو اور پھر اٹھو۔کیوں کہ تمہیں مار ڈالنے کے لئے میں تلوار بھیج رہا ہو ں۔‘

28 “وہ لوگ تمہا رے ہا تھ سے پیالہ لینے سے انکار کریں گے۔ وہ اسے پینے سے انکار کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہو گے، ’خداوند قادر مطلق یہ باتیں بتا تا ہے۔تم یقیناً ہی اس پیالہ سے پیو گے 29 میں اپنے نام پر پکارے جانے والے یروشلم شہر پر پہلے ہی بری مصیبتیں ڈھانے جا رہا ہو ں۔ ہو سکتا ہے کہ تم لوگ سو چو گے کہ تمہیں سزا نہیں ملے گی لیکن تم غلط سوچ رہے ہو۔ تمہیں سزا ملے گی۔میں رو ئے زمین کے لوگوں پر حملہ کر نے کے لئے تلوار مانگنے جا رہا ہوں۔” یہ پیغام خداوند قادر مطلق کا ہے۔

30 “اس لئے تم یہ سب باتیں ان کے خلاف نبوت سے بیان کرو۔ اور ان سے کہہ دو:

“خداوند بلندی پر سے گر جے گا
    اور اپنے مقدس گھر سے للکارے گا۔
وہ اپنی بلند آوا ز سے اپنی چراگاہ پر گرجے گا۔
    انگور لتاڑنے وا لو ں کی مانند وہ زمین کے سب باشندوں کو للکا ریگا۔
31 تبا ہی زمین کے آخری سرو ں پر پہنچے گی۔
    کیوں کہ خداوند قو موں کے خلاف لڑیگا۔
وہ تمام انسان کو عدا لت میں لا ئے گا۔
    خداوند ان تمام کو جو شریر ہیں تلوار کے حوا لے کرے گا۔”
یہ خداوند کا پیغام ہے۔

32 خداوند قادر مطلق یوں فرماتا ہے:
“ ایک ملک سے دوسرے ملک تک
    جلد ہی بربادی آئے گی۔
یہ زمین کے دور دراز کے علاقے سے
    آئی ہو ئی آندھی کی طرح پھیل جا ئے گی۔”

33 ان لوگوں کی لا شیں جسے خداوند کے ذریعہ ہلاک کیا گیا ہے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پڑی ہوں گی۔ ان پر کو ئی بھی توجہ نہ دیگا۔ کو ئی بھی خداوند کی طرف سے ان کی لاشوں کو اکٹھا نہیں کرے گا۔ اور نہ دفن کریگا۔ وہ کھا د کی طرح رو ئے زمین پر پڑے رہیں گے۔

34 تم چروا ہو ں کو رونا اور چلانا چا ہئے۔
    اے بھیڑو (لوگو ) امراء! درد سے تڑپتے ہو ئے زمین پر لیٹو۔
    کیوں کہ تمہا رے قتل کے ایّام آپہنچے ہیں۔
خداوند تمہیں تِتر بتر کر دیگا۔
    تم نفیس برتن کی طرح گر جا ؤ گے۔
35 چروا ہوں کے چھپنے کے لئے کو ئی جگہ نہیں ملے گی،
    نہ گلّہ کے سرداروں کو بچ نکلنے کی۔
36 میں چرواہوں(امراء) کا شور مچانا سن رہا ہوں۔
    خداوند ان کی چراگا ہ (ملک ) کو نیست ونابودکر رہا ہے۔
37 اور سلامتی کے بھیڑ خانے
    خداوند کے قہر شدید سے بر باد ہو گئے۔
38 جوان شیر کی طرح جو شکار پکڑنے کے لئے اپنے ماند سے نکل پڑتا ہے
    خداوند اپنی زمین کو تبا ہ کر دے گا۔
خداوند بہت غضبنا ک ہے۔
    اس کا غصہ لوگوں کو نقصان پہنچا ئے گا۔

Jeremiah 25 New International Version (NIV)

Seventy Years of Captivity

25 The word came to Jeremiah concerning all the people of Judah in the fourth year of Jehoiakim son of Josiah king of Judah, which was the first year of Nebuchadnezzar king of Babylon. So Jeremiah the prophet said to all the people of Judah and to all those living in Jerusalem: For twenty-three years—from the thirteenth year of Josiah son of Amon king of Judah until this very day—the word of the Lord has come to me and I have spoken to you again and again, but you have not listened.

And though the Lord has sent all his servants the prophets to you again and again, you have not listened or paid any attention. They said, “Turn now, each of you, from your evil ways and your evil practices, and you can stay in the land the Lord gave to you and your ancestors for ever and ever. Do not follow other gods to serve and worship them; do not arouse my anger with what your hands have made. Then I will not harm you.”

“But you did not listen to me,” declares the Lord, “and you have aroused my anger with what your hands have made, and you have brought harm to yourselves.”

Therefore the Lord Almighty says this: “Because you have not listened to my words, I will summon all the peoples of the north and my servant Nebuchadnezzar king of Babylon,” declares the Lord, “and I will bring them against this land and its inhabitants and against all the surrounding nations. I will completely destroy[a] them and make them an object of horror and scorn, and an everlasting ruin. 10 I will banish from them the sounds of joy and gladness, the voices of bride and bridegroom, the sound of millstones and the light of the lamp. 11 This whole country will become a desolate wasteland, and these nations will serve the king of Babylon seventy years.

12 “But when the seventy years are fulfilled, I will punish the king of Babylon and his nation, the land of the Babylonians,[b] for their guilt,” declares the Lord, “and will make it desolate forever. 13 I will bring on that land all the things I have spoken against it, all that are written in this book and prophesied by Jeremiah against all the nations. 14 They themselves will be enslaved by many nations and great kings; I will repay them according to their deeds and the work of their hands.”

The Cup of God’s Wrath

15 This is what the Lord, the God of Israel, said to me: “Take from my hand this cup filled with the wine of my wrath and make all the nations to whom I send you drink it. 16 When they drink it, they will stagger and go mad because of the sword I will send among them.”

17 So I took the cup from the Lord’s hand and made all the nations to whom he sent me drink it: 18 Jerusalem and the towns of Judah, its kings and officials, to make them a ruin and an object of horror and scorn, a curse[c]—as they are today; 19 Pharaoh king of Egypt, his attendants, his officials and all his people, 20 and all the foreign people there; all the kings of Uz; all the kings of the Philistines (those of Ashkelon, Gaza, Ekron, and the people left at Ashdod); 21 Edom, Moab and Ammon; 22 all the kings of Tyre and Sidon; the kings of the coastlands across the sea; 23 Dedan, Tema, Buz and all who are in distant places[d]; 24 all the kings of Arabia and all the kings of the foreign people who live in the wilderness; 25 all the kings of Zimri, Elam and Media; 26 and all the kings of the north, near and far, one after the other—all the kingdoms on the face of the earth. And after all of them, the king of Sheshak[e] will drink it too.

27 “Then tell them, ‘This is what the Lord Almighty, the God of Israel, says: Drink, get drunk and vomit, and fall to rise no more because of the sword I will send among you.’ 28 But if they refuse to take the cup from your hand and drink, tell them, ‘This is what the Lord Almighty says: You must drink it! 29 See, I am beginning to bring disaster on the city that bears my Name, and will you indeed go unpunished? You will not go unpunished, for I am calling down a sword on all who live on the earth, declares the Lord Almighty.’

30 “Now prophesy all these words against them and say to them:

“‘The Lord will roar from on high;
    he will thunder from his holy dwelling
    and roar mightily against his land.
He will shout like those who tread the grapes,
    shout against all who live on the earth.
31 The tumult will resound to the ends of the earth,
    for the Lord will bring charges against the nations;
he will bring judgment on all mankind
    and put the wicked to the sword,’”
declares the Lord.

32 This is what the Lord Almighty says:

“Look! Disaster is spreading
    from nation to nation;
a mighty storm is rising
    from the ends of the earth.”

33 At that time those slain by the Lord will be everywhere—from one end of the earth to the other. They will not be mourned or gathered up or buried, but will be like dung lying on the ground.

34 Weep and wail, you shepherds;
    roll in the dust, you leaders of the flock.
For your time to be slaughtered has come;
    you will fall like the best of the rams.[f]
35 The shepherds will have nowhere to flee,
    the leaders of the flock no place to escape.
36 Hear the cry of the shepherds,
    the wailing of the leaders of the flock,
    for the Lord is destroying their pasture.
37 The peaceful meadows will be laid waste
    because of the fierce anger of the Lord.
38 Like a lion he will leave his lair,
    and their land will become desolate
because of the sword[g] of the oppressor
    and because of the Lord’s fierce anger.

Footnotes:

  1. Jeremiah 25:9 The Hebrew term refers to the irrevocable giving over of things or persons to the Lord, often by totally destroying them.
  2. Jeremiah 25:12 Or Chaldeans
  3. Jeremiah 25:18 That is, their names to be used in cursing (see 29:22); or, to be seen by others as cursed
  4. Jeremiah 25:23 Or who clip the hair by their foreheads
  5. Jeremiah 25:26 Sheshak is a cryptogram for Babylon.
  6. Jeremiah 25:34 Septuagint; Hebrew fall and be shattered like fine pottery
  7. Jeremiah 25:38 Some Hebrew manuscripts and Septuagint (see also 46:16 and 50:16); most Hebrew manuscripts anger
New International Version (NIV)

Holy Bible, New International Version®, NIV® Copyright ©1973, 1978, 1984, 2011 by Biblica, Inc.® Used by permission. All rights reserved worldwide.

Viewing of
Cross references
Footnotes